سید عبدالوہاب شاہ شیرازی کے فکری و تحقیقی مضامین کا باضابطہ پلیٹ فارم
Polygamy ایک سے زائد شادیاں

کثرت سے نکاح کرو

سید عبدالوہاب شاہ
943 مشاہدات
کثرت سے نکاح کرو

کثرت سے نکاح کرو

قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: تناکحوا تکثروا، فنی اباھی بکم الامم یوم القیٰمۃ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑھ چڑھ کر نکاح کرو، تم تعداد میں بہت زیادہ ہوجاو گے اس لئے کہ میں بروزقیامت دوسری امتوں پر تمہاری کثرت کے سبب فخر کروں گا۔

بہتر وہ جس کی بیویاں زیادہ ہوں۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں ایک باب قائم کیا ہے جس کا عنوان ہے:

باب کثرۃ النسا (کثرت سے بیویاں رکھنا)۔ یہ باب قائم کرکے اس کے تحت یہ حدیث لائے ہیں:

عن سعید بن جبیر قال: قال لی ابن عباس : ھل تزوجت؟ قلتُ: لا، قال: فتقوج، فان خیرھٰذہ الامۃ اکثرھا نسا۔

سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے (میرے استاد) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا تم نکاح کرچکے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: نکاح کرو اس لئے کہ اس امت میں بہتر وہ ہے جس کی بیویاں زیادہ ہیں۔

معلوم ہوا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ قوم متعدد شادیوں کی فضیلت پر نص ہے،

حافظ ابن حجر مذکورہ قول کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اشارہ فرمادیا کہ نکاح کا ترک کرنا ایسی چیز نہیں کہ اسے ترجیح دی جائے، اس لئے کہ اگر نکاح کا ترک قابل ترجیح شی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اختیار کرتے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ خشیت ومعرفت  رکھنے کے باوجود کثرت سے نکاح کرتے ہیں۔

اور ‘‘شفا’’ میں لکھا ہے کہ عرب نکاح کی کثرت کو پسند کیا کرتے تھے کیونکہ یہ کام نکاح کرنے والے

مرد کی مردانگی پر دلالت کرتا ہے۔

لہٰذا اپنی مردانگی کا اظہار کریں۔

یہ بھی پڑھیں: متعدد شادیاں اور خواتین کا تحفظ

ایک سے زائد شادیوں کے بارے میں سوالات                  

سیرت کا ایک پہلو یہ بھی ہے

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلو ہیں۔ ان میں سے ایک پہلو ایسا بھی ہے جس کی اس آخری زمانے میں اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں صرف ایک ہی بیوی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک سے زائد شادیاں کرکے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو پورا کیا

  فانکحوا ماطاب لکم من النسا مثنی وثلث وربٰع۔

جس زمانے میں ہم لوگ جی رہے ہیں اس زمانے میں ایک شادی کا رواج عام ہوگیا ہے اور دوسری شادی کو لوگ بُرا سمجھنے لگے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قوانین قدرت میں یہ بات رکھی ہوئی ہے کہ عورتوں کی شرح پیدائش مردوں سے زیادہ ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ایک مرد کو چار شادیاں کرنے کا حکم فرمایا۔ اور بوقت مجبوری ایک ہی پر اکتفا کرنے کی اجازت بھی دی۔

آج لڑکیوں کو رشتے نہیں مل رہے عورتوں کی تعداد زیادہ ہے جس کی وجہ سے عورت کی قدروقیمت اور ویلیو کم ہوگئی ہے ، نکاح مہنگا اور زنا سستا ہوچکا ہے۔ آپ نکاح کا تصور کریں فورا ذہن میں دو تین لاکھ کا بجٹ آجائے گا، مگر زنا کا سوچیں تو چار پانچ سو میں بھی دستیاب ہے ان تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور صحابہ کرام کی زندگیوں سے سبق حاصل کرکے چلیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چار شادیاں کیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آٹھ شادیاں کیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آٹھ شادیاں کیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نو شادیاں کیں۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ستر شادیاں کیں۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے چار شادیاں کیں، حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ستر یا نوے یا ایک ہزار شادیاں کیں۔

فہرست پر واپس جائیں

Also read: Polygamy List In Urdu  ..  List In English
اس کالم کو شیئر کیجیے:
سید عبدالوہاب شاہ

تحریر: سید عبدالوہاب شاہ

بانی و ایڈیٹر نکتہ گائیڈنس (Nukta Guidance)

آپ کے فکری مضامین اور اصلاحی تجزیات پچھلے کئی سالوں سے لاکھوں قارئین تک پہنچ رہے ہیں، جن کا بنیادی مقصد فکری شعور اور اسلامی علوم کی حقیقی تفہیم ہے۔

اس کیٹگری کے مزید اہم کالمز

ٹونگ کٹ علی کیا ہے؟Polygamy ایک سے زائد شادیاں
1,028

ٹونگ کٹ علی کیا ہے؟

ٹونگ کٹ علی کیا ہے؟ Tongkat Ali سرچ و ترتیب: سید عبدالوہاب شاہ شیرازی انڈونیشیاء اور ملائیشیاء میں پایا جانے والا ایک پودا جس کی جڑ بیش بہا فوائد کی حامل ہے۔ مثلا: سستی کاہلی، تھکاوٹ پٹھوں کی بہتری، ج

سید عبدالوہاب شاہمکمل تحریر پڑھیں←
عورتوں کی شرح پیدائش زیادہ ہونے کی وجوہاتPolygamy ایک سے زائد شادیاں
940

عورتوں کی شرح پیدائش زیادہ ہونے کی وجوہات

عورتوں کی شرح پیدائش زیادہ ہونے کی وجوہات 1۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں میں عورتوں کی طرف جنسی میلان زیادہ رکھا ہے۔ 2۔ عورتوں کی کثرت پیدائش حدیث سے ثابت ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنت میں

سید عبدالوہاب شاہمکمل تحریر پڑھیں←
کیا دوسری شادی محض مباح کام ہےPolygamy ایک سے زائد شادیاں
796

کیا دوسری شادی محض مباح کام ہے

کیا دوسری شادی محض مباح کام ہے ۔۔۔؟؟؟ بعض حضرات کہتے ہیں کہ دوسری شادی محض ایک مباح کام ہے اور اس عمل کا اقدام کرکے اہل علم اور دیگر نیک لوگ قوم کی طرف سے عیش پرستی شہوت پرستی کے جن طعنوں اور جس قیل و

سید عبدالوہاب شاہمکمل تحریر پڑھیں←