ایمان و یقین

* * *مفتی تنظیم عالم قاسمی۔حیدرآباد دکن* * *
ایک معبود پر یقین اور اس پر کامل اعتماد مذہب اسلام کی بنیاد اور اس کی جڑ ہے۔ نجات اور اللہ کی رضامندی کا حصول اسی سے متعلق ہے۔ اگر اس میں کوئی خامی رہی تو یہ خامی اعلیٰ سطح کی عبادتوں اور شب و روز کی گریہ و زاری کو بے اثر کرسکتی ہے۔پختہ عقائد اورایمان ویقین کے بغیر نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور دوسری جانی و مالی قربانیاں ضائع اور بے حیثیت ہیں۔اللہ تعالیٰ کی نظر میں ایسے اعمال بے جان پتھروں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں ایمان کی پختگی، یقین کی درستگی اور عقائد کی مضبوطی کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔اگر غور کیا جائے تو ایمان و یقین کے اسی درس کے لیے عہدنبویؐ کے اوائل میں تقریباً 10سال تک احکام و مسائل سے تعرض نہیں کیا گیا، نہ نماز سے متعلق آیتیں نازل کی گئیں اور نہ ہی روزہ وغیرہ کے مسائل ذکر کیے گئے بلکہ اسلام کے شروع زمانہ میں صرف پختہ ایمان اور مستحکم عقیدہ کی تعلیم دی جاتی رہی کیونکہ عقائد میں استحکام کے بعد دیگر مسائل اور جزئیات پر عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے اور ایمان و یقین ہی اصل عبادت ہے۔
ذخیرئہ احادیث میں کثرت سے ایسی روایتیں ملتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے نازک حالات میں بھی جبکہ ڈر اورخوف کی وجہ سے ایمان کی آہنی دیوار میں شکن پیدا ہونے کا خطرہ تھا، اللہ کی ذات اور اس کی قوت پر نظر رکھنے کی ہدایت دی اور یہ حکم دیا گیا کہ خوشی ہو یا غم، مصیبت ہو یا راحت ہر وقت اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسہ رکھو اور یہ یقین کرو کہ اس کے علاوہ کوئی مشکل کشا نہیں ، تنگی کو فراخی میں تبدیل کرنے والی ذات وہی ہے جو خالق ارض و سماء ہے اور جو تمام عالم کا معبود اور پالنہار ہے۔
سیرت نگاروں نے ہجرت کے واقعہ کا جس انداز سے تذکرہ کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ رات اور رات کی وہ گھڑی جس میں آپﷺنے اپنے یار غار حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ آبائی وطن ترک کرکے مدینہ کا رخ کیا، کتنی اندھیری اور ڈرائونی تھی۔پتھریلی زمین، خاردار جھاڑیاں اور اُدھر مشرکین مکہ کے تعاقب کے اندیشے لیکن ایمان و یقین کا وہ روشن چراغ تھا، جس کی روشنی میں سفر کرتے ہوئے دونوں حضرات غار ثور تک پہنچے اور وہیں قیام کا فیصلہ کیاگیا۔آپ دونوں حضرات غار ثور میں چھپے ہوئے تھے کہ مشرکوں کی تلاش کرنیوالی پارٹی نقش قدم کے نشانات کی مدد سے اس غار کے منہ تک پہنچ گئی۔نشان شناش نے بتایا کہ نشانِ قدم یہیں تک ملتے ہیں، اسی غار کے اندر ہوں گے۔حضرت ابوبکرؓکے کان سے دشمنوں کی مخلوط آواز ٹکرائی، نگاہ اٹھائی تو دشمنوں کے پائوں نظر آرہے تھے۔ کون انسان ہے جس کے بدن کے رونگٹے اس وقت کھڑے نہ ہوں اور جو اپنے کو جانی دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار دیکھ کر پریشان و مضطرب نہ ہوتا ہو۔ حضرت ابوبکرؓ اس خیال سے سخت مضطرب تھے کہ اگر خدا نخواستہ دشمنان اسلام نے رسولﷺ پر قابو پالیا تو اس کا انجام کیا ہوگا، اسی امید و بیم کی کیفیت میں تھے کہ یکایک زبان نبویﷺ کھلتی ہے، ارشاد ہوتا ہے: لا تحزن ان اللہ معنا ’’تم غمگین نہ ہو کیونکہ اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔ یہ ایک مختصر جملہ ہے لیکن کیا قوتِ ایمان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے؟آپﷺ نے اپنی بعثت کا خلاصہ اس میں پیش فرما دیا، جس کے لیے یہ کون و مکان سجایا گیا اور جس یقین پر کائنات کا محور گردش کر رہا ہے۔
جب توحید کی شمع جلائی گئی تو سیکڑوں پروانے اس کے اردگر جمع ہوگئے،صداقت کی اس آواز سے مشرکین مکہ کے دل دہل اٹھے۔ ان کی ریاست، سرداری اور آبائی عقائد پر ضرب لگ رہی تھی، اس لیے وہ لوگ بے چین ہوگئے اور وہ مسلمان جو بے آسرا تھے، جن کا کوئی حامی اور مددگار نہیں تھا اُن پر یہ دشمنانِ دین ٹوٹ پڑے۔ کبھی تنگ تاریک کوٹھری میں بند رکھتے اور مختلف طرح کی سزائیں دیتے اور کبھی جور و ستم کے دوسرے دلدوز طریقے اپناتے تھے۔ امام المؤذنین سیدنا بلال حبشیؓ نے جب اپنے ایمان کا اعلان کیا تو ان کے آقا امیہ بن خلف نے ظالمانہ اور وحشیانہ رویہ کا ثبوت دیا۔ ٹھیک دوپہر کے وقت جبکہ دھوپ تیز ہوجاتی اور پتھر آگ کی طرح تپنے لگتے تو غلاموں کو حکم دیتا کہ بلال کو تپتے ہوئے پتھروں پر لٹا کر سینہ پر ایک بھاری پتھر رکھ دیا جائے تاکہ جنبش نہ کرسکیں اور پھرکہتا کہ تو اسی طرح مر جائے گا، اگر نجات چاہتا ہے تو محمد (ﷺ) کا انکار کر اور لات و عزیٰ کی پرستش کر لیکن ایمان و یقین کا یہ پیکر ہمیشہ احد احد (یعنی اللہ ایک ہے اللہ ایک ہے) پکارتے رہتا۔
رسول اکرمﷺ نے حضرات صحابہ کے سامنے جنت و جہنم، قیامت کی ہولناکیوں اور قبر میں پیش آنے والے واقعات و حوادثات کا تذکرہ کیا۔ یہ تذکرہ نہیں بلکہ واقعہ کا اظہار تھا۔ ایمان لانے والوں نے ان باتوں پر ایمان لایا اور اس طرح کہ گویا جنت و جہنم اور آخرت کے مناظر آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔ حضرت عثمان غنی ؓ قبروں سے گزرتے تو ان کی آنکھوں سے آنسو ابل پڑتے۔ یہاں تک کہ داڑھی تر ہوجاتی تھی۔سوال کیا گیا کہ آپ جنت و جہنم کے تذکرہ سے اس قدر نہیں روتے جنتا کہ قبر سے روتے ہیں۔آپ ؓنے جواب دیا کہ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، اگر اس سے نجات مل گئی تو اگلی منزلیں آسان ہیں اور اگر قبر میں الجھ گئے تو آخرت کے دوسرے تمام مواقع پریشان کن اور سخت ہوں گے(مشکوٰۃ)۔
حضرت ابوموسیٰ ؓکابیان ہے کہ انہوں نے ایک مجلس میں رسول اکرم ﷺکی یہ حدیث سنائی کہ جنت کے دروازے تلواروں کے سائے میں ہیں۔ ایک خستہ حال شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : ابوموسیٰ کیا تم نے رسول اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے یقینی طور پر سنا ہے۔انہوں نے کہا :ہاں! یہ سنتے ہی وہ شخص اپنے ساتھیوں کی طرف مڑا اور کہا کہ میں تمہیں آخری سلام کرتا ہوں اور پھر اس نے اپنی تلوار کا نیام توڑ کر پھینک دیا (اس کے ذریعہ اس نے اپنے ارادہ کا اظہار کیا کہ اب میں لوٹ کر نہیں آؤں گا)۔ وہ اپنی تلوار لے کر دشمنوں کی طرف روانہ ہوا اور ان سے لڑا یہاں تک کہ شہید ہوگیا (مشکوٰۃ)۔
ان شخص نے براہ راست رسول اکرمﷺسے یہ حدیث نہیں سنی بلکہ حضرت ابوموسیٰ ؓنے اس کی خبر دی، اس لیے انہوں نے اپنے کامل یقین اور ایمان کی پختگی کے لیے دوبارہ اس کی تصدیق کرائی، جب انہیں حدیث پر اعتماد حاصل ہوگیا کہ جنت اور اس کی نعمتوں کا حصول تلواروں کے سائے میں ہے، اُس پر یقین کرنے میں دیر نہ لگی، اس لیے کہ جس بات کی نسبت حضور ﷺ کی طرف یقینی طور پر ہوجائے وہ تمام شکوک و شبہات سے بالاتر ہے۔ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ اس میں تذبذب اور پس وپیش کرے۔جنت کے وجود اور پھر آپﷺ کے اقوال مبارکہ پر انہیں اس قدر یقین تھا کہ تلوار لے کر چل پڑے اور اللہ کے راستے میں اپنی جان جان آفریں کے حوالہ کردی۔
تاریخ نگاروں نے جنگ قادسیہ اور پھر حضرت سعد بن وقاصؓ کے جرأت مندانہ اور دلیرانہ جنگ کو اسی لیے اہمیت دی ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طاقت اور اس پر ایمان و یقین کا غیر معمولی درس و عبرت مضمر ہے۔تاریخ پر جن حضرات کی نظر ہے، وہ جانتے ہوں گے کہ ایرانیوں نے قادسیہ سے بھاگ کر جب مدائن کا رخ کیا تو حضرت سعدؓ کو فکر لاحق ہوئی کہ کس طرح مدائن پر قبضہ کیا جائے ۔ دریائے دجلہ درمیان میں حائل تھا، اس کا پایاب عبور کرنا سخت دشوار تھا، ایرانیوں نے مدائن جاتے ہوئے پل کو مسمار کردیا تھا، دور دور تک کشتی بھی نہیں چھوڑی تھی، دوسرے کنارے پر ایرانی فوج بھی متعین تھی جو دریا عبور کرتے ہوئے تیر اندازی پر مامور تھی۔دوسرے روز حضرت سعد ؓنے گھوڑے پر سوار ہو کر اور تمام فوج کی کمر بندی کراکر فرمایاکہ تم میں کون ایسا بہادر ہے جو اپنی جمعیت کے ساتھ اِس کا وعدہ کرے کہ وہ ہم کو دریا عبور کرنے کے وقت دشمن کے حملہ سے بچائے گا۔حضرت عاصم ؓ نے اس کی ذمہ داری قبول کرلی اور600تیر اندازوں کی ایک جماعت لے کر دریائے دجلہ کے کنارے ایک اونچے مقام پر جا بیٹھے، اس کے بعد حضرت سعد ؓنے نَستَعینُ بِاللہِ و نَتَوکَّل عَلیہِ حَسبُنَا اللہُ و نِعمَ الوَکیل’’ہم اللہ سے مدد طلب کرتے ہیں اور اس پر بھروسہ کرتے ہیں، ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے‘‘کہہ کر اپنا گھوڑا سمندر میں ڈال دیا۔ اس کے تقلید میں دوسروں نے بھی جرأت سے کام لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلامی فوج دریا عبور کر گئی (تاریخ اسلام)۔
سمندر میں گھوروں کو ڈالنا اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد کا نتیجہ تھا۔ انہیں یقین تھاکہ موت اور حیات کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے، جان کے تحفظ کے لیے وہ ظاہری اسباب کا محتاج نہیں ۔شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے قرنِ اول کے مسلمانوں کی اس جرأتمندی، دلیری اور ایمان و یقین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے:
دشت تو دشت ہے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ (متوفی 101ھ) حسب معمول عشاء کی نماز پڑھ کر اپنی صاحبزادیوں کی خیر و عافیت معلوم کرنے گھر تشریف لے جارہے تھے۔ وہی شخص جس نے صبح سے شام تک ہزاروں ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کی جس نے سیکڑوں درہم و دینار تقسیم کیے، گھر جاتے ہوئے ہاتھ خالی تھا، حکومت کے خزانے سے ایک روپیہ لینا مناسب نہیں سمجھا، گھر پر فاقہ تو نہیں نیم فاقہ ضرور تھا۔جب گھر پہنچے تو باپ کی آہٹ پاکر صاحبزادیاں خیر مقدم کے لیے دروازے تک آئیں۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے دیکھا کہ چہرہ زرد ہے اور صاحبزادیاں اپنے منہ پر ہاتھ رکھی ہوئی ہیں۔چہرہ کی زردی نئی نہیں تھی، ہاں منہ پر ہاتھ رکھنے کی کیفیت نئی تھی۔ باپ نے وجہ معلوم کی، بیٹیوں نے کوئی جواب نہیں دیا، البتہ اَنا بولی کہ آج ان بچیوں نے صرف پیاز اور مسور کی دال سے پیٹ بھرا ہے، گھر میں کھانے کو کچھ اور نہیں تھا، پیاز کی بو چھپانے کے لیے یہ منہ پر ہاتھ رکھ رہی ہیں۔باپ کا دل تڑپ اٹھا لیکن صبر و قناعت، فقر و ایثار، زہد و تقویٰ اور ایمان و یقین کے آہنی قلعہ میں ذرا بھی جنبش پیدا نہ ہوئی۔حضرت عمر بن عبدالعزیزرحمۃ اللہ علیہ نے آنکھوںمیں آنسو بھرتے ہوئے جواب دیا:
’’ اے میری بیٹیو! یہ میرے لیے کوئی مشکل کام نہیں کہ تمہارے دسترخوانوں کو انواع و اقسا م کے کھانوں سے بھر دیا جائے لیکن کیا تم یہ پسند کروگی کہ اس کے بدلے تمہارا باپ دوزخ کی آگ میں ڈال دیا جائے۔‘‘ (کیا ہم مسلمان ہیں )۔
اگر جنت کا حسن، جہنم کا ڈرائونی منظر، قیامت کی ہولناکیاں اور آخرت کے دیگر دلدوز مناظر نگاہوں میں رہیں، اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی طاقت کا تصور ذہن میں ہو، ایمان و یقین میں پختگی اور استحکام پایا جائے تو تقویٰ کی تمام منزلیں آسان ہوسکتی ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت رضامندیٔ الٰہی سے نہیں روک سکتی ۔
آج اسلامی معاشرہ میں جھوٹ، غیبت، چغلی، زناکاری، سود، ظلم وزیادتی اور دوسری تباہ کاریوں کا جو چلن عام ہوتا جارہا ہے، اس کا سرا اِیمان و یقین سے جاکر ملتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حاضر و ناظر ہونے کا احساس اگر انسان کے ذہن و دماغ پر ہمیشہ طاری رہے تو ناممکن ہے کہ وہ اپنی فکر و عمل میں کوئی غلط روش اختیار کرے۔اگر یہ تصور اور عقیدہ مضبوط و مستحکم نہ ہو تو انسان وہ کام کرتا ہے جس سے حیوانیت اور بہیمیت کو بھی شرم آتی ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.