ہمارے بزرگوں کی صحت کیوں اچھی ہوتی تھی

ہمارے بزرگوں کی صحت کیوں اچھی ہوتی تھی
ہمارے بزرگ اتنے بیمار نہیں ہوتے تھے ان کی صحت اچھی ہوتی تھی اس کی وجہ چار ایسی چیزیں ہیں جو ان کی غذاوں میں پائی جاتی تھیں جبکہ ہماری غذاوں میں چار چیزوں کی کمی ہے جس کی وجہ سے طرح طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ ہمیں کوئی غذا فائدہ نہیں دیتی، نیند کی کمی ہے، بلڈپریشر، شوگر عام ہے، جگہ، دل ، دماغ کے مسائل بہت زیادہ ہیں، تھکاوٹ ، جوڑوں کا درد اور کمزوری بہت زیادہ ہے۔ وہ چار چیزیں یہ ہیں۔
[caption id="attachment_1844" align="aligncenter" width="300"]
Nukta: Hakeem Syed Abdulwahab Shah[/caption]
(تحریر: حکیم سید عبدالوہاب شاہ)
چار اہم غذائی اجزاء:
- الفا لیپوئک ایسڈ (Alpha Lipoic Acid)
- گلوٹا تھایون (Glutathione)
- میگنیشیم (Magnesium)
- سیلینیم (Selenium)
ان میں پہلی دو چیزیں در اصل اینٹی آکسیڈنٹ ہوتے ہیں۔
اینٹی آکسیڈنٹ کیا ہے؟
ہمارے جسم کو ہر وقت انرجی اور طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ انرجی اور طاقت ہمیں خوراک سے حاصل ہوتی ہے۔ جب ہم خوراک کھاتے پیتے ہیں تو معدے میں جاکر وہاں ہزاروں مزدور اسے توڑتے ہیں، اس ٹوڑنے کے نتیجے میں ایک خاص کیمیکل عمل ہوتا ہے جس کے نیتیجے میں ہمیں انرجی اور طاقت ملتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ سائیڈ پروڈکٹس بھی بنتی ہیں۔ ان سائیڈ پروڈکٹس میں فری ریڈیکلز اور آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو ہمارے خلیوں کو توڑتے اور تباہ کرتے ہیں۔
ان آکسیڈنٹ کو روکنے کے لیے ہمارے جسم میں قدرتی طور پر کچھ اینٹی آکسیڈنٹس پیدا ہوتے ہیں جن میں دو سب سے بڑے اینٹی آکسیڈنٹ ہیں۔ ایک الفا لوپک ایسڈ اور دوسرا گلوٹا تھایئون۔ یہ دونوں بھی ہمیں مختلف غذاوں سے حاصل ہوتے ہیں۔ اگر ان کی مقدار کم ہو جائے تو پھر ریڈیکلز اور آکسیڈنٹ ہمارے خلیوں کو ڈیمج کرتے ہیں جس سے ہمیں طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اگر ان اینٹی آکسیڈنٹ کی مقدار پوری ہو تو یہ ہمارے خلیوں کا تحفظ کرتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں یہ آکسیڈنٹ کہاں سے ملیں گے؟ تو اس کا جواب ہے یہ آکسیڈنٹ ہماری روز مرہ کی غذاوں میں ہی پائے جاتے ہیں جن میں سے چند غذائیں ایسی ہیں جن میں یہ کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں مثلا:
- سبز پتوں والی سبزیاں (پالک، میتھی وغیرہ)
- گاجر، چقندر، آلو
- گوبھی، پپیتا، کیلا
- سرخ گوشت، انڈے
- پیاز، ادرک، لہسن وغیرہ۔
الغرض ہماری جو جو نارمل قدرتی غذائیں ہیں ان میں یہ تمام چیزیں موجود ہوتی ہیں۔
بزرگوں کی خوراک اور آج کی خوراک میں فرق:
پھر سوال پیدا ہوتا ہے جب یہ ہماری غذاوں میں موجود ہے تو ہمیں فائدہ کیوں نہیں ہوتا۔ ہمارے بزرگ بھی یہی کھاتے تھے ان کو فائدہ ہوتا تھا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ان غذاوں کو فطری اور سادہ طریقے سے کھاتے تھے۔ جبکہ ہم نے ان غذاوں کو سادہ اور فطری طریقے سے استعمال کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم ان غذاوں کو ڈالڈے میں خوب بھونتے اور تلتے ہیں۔ پھر طرح طرح کے کیمیکلز کا استعمال کرتے ہیں۔ خاص طور پر کمپنیوں کے بنے بنائے مصالحے جن میں کیمکلز کی ملاوٹ ہوتی ہے ان کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم بہت ساری ایسی چیزیں کھاتے ہیں جو ہمارے بزرگوں کے زمانے میں خوراک کا حصہ نہیں تھیں۔ مثلا کولڈڈرنکس، طرح طرح کے بیکری آئٹمز، ڈالڈا اور اس میں تلی ہوئی چیزیں ، کمپنیوں کی بنائی ہوئی مصنوعی چیزیں ، جیسے مصنوعی دودھ، مصنوعی مصالحے، مصنوعی میٹھی چیزیں اور بے شمار ایسی خوراکیں جو آج سے پچاس سال پہلے نہیں تھیں آج ہماری خوراک کا نہ صرف حصہ ہیں بلکہ بڑا حصہ ہیں جبکہ قدرتی اور فطری غذائیں بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔
اس لیے اگر ہم ان قدرتی اور فطری غذاوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اسی فطری طریقے سے کھانا ہوگا جیسے پہلے لوگ کھاتے تھے، یعنی ڈالڈے اور کیمیکلز کے بغیر سادہ طریقے سے پکا کر، جسے ہم ابالنا اور یحنی بنانا بھی کہتے ہیں۔ یعنی ہمیں پکانے والی چیز کو صرف پکانا چاہیے مثلا گوشت ہے اسے کچا نہیں کھا سکتے ، تو اسے ہمیں صرف پکانا چاہیے۔ اور گوشت کو پکانے کے لیے صرف پانی چاہیے، ڈالڈ، مصنوعی مصالحے، کیمیکلز اور عجیب و غریب طریقے نہیں چاہیے۔ہاں ہم قدرتی مصالحے اس میں بقدر ضرورت استعمال کر سکتے ہیں، جیسے الائچی، کالی یا سبز مرچ، دارچینی، لونگ، وغیرہ وغیرہ
صحیح خوراک تیار کرنے کا طریقہ:
- اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری صحت بھی ہمارے بزرگوں جیسی ہو، تو ہمیں اپنی خوراک کو قدرتی اور سادہ طریقے سے تیار کرنا ہوگا۔
- کھانے کو صرف پکائیں، یعنی اسے ابالیں یا یخنی کی شکل میں تیار کریں۔
- گوشت پکانے کے لیے صرف پانی اور قدرتی مصالحے استعمال کریں، جیسے الائچی، کالی یا سبز مرچ، دارچینی، لونگ وغیرہ۔
- ڈالڈے، مصنوعی مصالحوں اور کیمیکلز کا مکمل طور پر پرہیز کریں۔
- کولڈ ڈرنکس اور دیگر غیر فطری اشیاء کو اپنی خوراک سے نکال دیں۔

تحریر: سید عبدالوہاب شاہ
بانی و ایڈیٹر نکتہ گائیڈنس (Nukta Guidance)
آپ کے فکری مضامین اور اصلاحی تجزیات پچھلے کئی سالوں سے لاکھوں قارئین تک پہنچ رہے ہیں، جن کا بنیادی مقصد فکری شعور اور اسلامی علوم کی حقیقی تفہیم ہے۔
اس کیٹگری کے مزید اہم کالمز
نکتہپندرہ سسٹم بنائیں۔
پندرہ سسٹم بنائیں۔ زندگی میں کامیابی اور خوشحالی محض قسمت کی بات نہیں اور نہ ہی یہ صرف دن رات کوہلو کے بیل کی طرح کام کرنے سے ملتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیاب اور ناکام انسان کی سوچ میں ایک بنیادی فرق ہ
نکتہفرقہ واریت اور مسلک پرستی میں فرق
فرقہ واریت اور مسلک پرستی میں فرق تحریر نام: Syed Abdul Wahab Shah ای میل: sherazi313@gmail.com تاریخِ اشاعت: 28 مارچ 2024 مسلمانوں میں فرقہ واریت اور مسلک پرستی یا گروہ بندی کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے، ا
نکتہبچوں کے نام اور لوگوں کے عجیب تصورات
بچوں کے نام اور لوگوں کے عجیب تصورات تحریر نام: Syed Abdul Wahab Shah ای میل: sherazi313@gmail.com تاریخِ اشاعت: 05 مارچ 2019 جب کسی کے گھر بچہ پیدا ہوتا ہے تو سنت طریقہ یہ ہے کہ ساتویں دن تک اس کا نا
